یادداشت: ثمن رباب رضوی جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
ایک عہد کا اختتام، ایک قوم کا تسلسل
تاریخ کے بعض جنازے صرف ایک شخصیت کی آخری رسومات نہیں ہوتے، بلکہ وہ قوموں کی روح، ان کے اجتماعی شعور اور ان کے نظریاتی عزم کا آئینہ بن جاتے ہیں۔ رہبرِ انقلاب کی تاریخی تشییعِ جنازہ بھی انہی نادر لمحات میں سے ایک ہے، جہاں لاکھوں انسانوں کی موجودگی نے یہ ثابت کیا کہ بعض رہنما اپنی زندگی میں قوم کی آواز ہوتے ہیں اور اپنی رحلت کے بعد قوم کے ضمیر کو مزید بیدار کر جاتے ہیں۔
یہ تشییعِ جنازہ صرف آنسوؤں کا اجتماع نہیں ہے، بلکہ وفاداری، عقیدت اور نظریاتی وابستگی کا ایک عظیم مظاہرہ ہے۔ جہاں مرد، خواتین، نوجوان اور بزرگ، سب ایک ہی پیغام دے رہے ہیں کہ شخصیات اگرچہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، مگر وہ فکر جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کی، زندہ رہتی ہے۔ اسی لیے یہ منظر ایک فرد کی جدائی سے بڑھ کر ایک قوم کے عزم اور بیداری کی علامت بن گیا۔
قرآنِ کریم فرماتا ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ. "ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔" (آلِ عمران: 185)
مگر تاریخ یہ بھی گواہی دیتی ہے کہ ایمان، اخلاص اور حق پر قائم نظریات موت کے ساتھ دفن نہیں ہوتے۔ وہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں اور نئی نسلوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔
کربلا اس حقیقت کی روشن ترین مثال ہے۔ امام حسینؑ کا جنازہ تو میدانِ کربلا میں رہ گیا، مگر ان کا پیغام آج بھی کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ حضرت زینبؑ اور امام زین العابدینؑ نے اس پیغام کو زندہ رکھا اور ثابت کیا کہ شہادت کسی فکر کا اختتام نہیں، بلکہ اس کی ابدی حیات کا آغاز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بعض جنازے خاموش نہیں ہوتے، بلکہ آنے والی نسلوں سے مسلسل مخاطب رہتے ہیں۔
رہبرِ انقلاب کی تشییعِ جنازہ نے بھی یہ پیغام دیا کہ ایک قوم کی اصل طاقت اس کے اتحاد، بصیرت، استقلال اور اپنے اصولوں سے وفاداری میں ہوتی ہے۔ کسی بھی قوم کا مستقبل صرف ایک شخصیت پر نہیں، بلکہ ان لاکھوں انسانوں پر قائم ہوتا ہے جو اس کے اعلیٰ اصولوں کو اپنے کردار میں زندہ رکھتے ہیں۔
ایک عہد کا اختتام ضرور ہوا، مگر ایک قوم کا سفر ختم نہیں ہوا۔ قومیں اس وقت زندہ رہتی ہیں جب وہ اپنے اصول، اپنی شناخت، اپنے اخلاق اور اپنی ذمہ داریوں کو فراموش نہیں کرتیں۔ یہی ہر عظیم تشییعِ جنازہ کا سب سے بڑا پیغام ہوتا ہے کہ جسم مٹی میں اتر جاتے ہیں، لیکن ایمان، نظریہ اور بیدار ضمیر تاریخ کے سفر کو جاری رکھتے ہیں۔
آج کا یہ منظر تاریخ کے صفحات میں صرف ایک الوداع کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد کی تجدید کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں ایک قوم نے اپنے رہنما کو رخصت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ نظریات کا پرچم سرنگوں نہیں ہوگا، بلکہ آنے والی نسلوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوتا رہے گا۔ یہی ایک عہد کا اختتام ہے، اور یہی ایک قوم کا تسلسل۔
آج ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا، مگر ایک قوم کا سفر نہیں رکا۔ رہنما سپردِ خاک ہو سکتے ہیں، لیکن وہ قومیں کبھی نہیں مرتیں جو اپنے رہنماؤں کے اصولوں، اپنے ایمان اور اپنی ذمہ داری کو زندہ رکھتی ہیں۔ یہی ایک عہد کا اختتام ہے اور یہی ایک قوم کا تسلسل۔"









آپ کا تبصرہ